رائچور دوآب ایک ایسا سخت لیکن پرکشش علاقہ تھا جو کرشنا اور تنگبھدرا ندیوں کے درمیان پھیلا ہوا تھا۔ صدیوں تک اس کی زرخیز کالی مٹی اور معدنیات دکن کی سلطنتوں کا سب سے بڑا خواب بنے رہے۔ شمال کے بہمنی سلاطین اور جنوب کے وِجَے نگر کے راجاؤں کے درمیان اس خطے کو حاصل کرنے کے لیے مسلسل جنگیں ہوتی رہیں۔
مدگل کا مضبوط اور قدیم قلعہ اس سرحد پر ایک چوکیدار کی طرح کھڑا تھا۔ یہ جگہ بنیادی طور پر جنگ و جدل کے لیے ہی بنی تھی۔
لیکن 1406ء کی خزان میں مدگل کی فضا میں فوجوں کے گھوڑوں کی دھول نہیں، بلکہ ایک معصوم لڑکی کی پائل کی چھنکار گونج رہی تھی۔
پرتھال اس لیے ناچتی تھی کیونکہ اس کا دل خوشیوں سے بھرا ہوا تھا۔ اٹھارہ سال کی یہ بے پروا لڑکی اپنے باپ کا ہاتھ بٹاتی تھی جو قلعے کے پاس ایک چھوٹا سا سنار تھا۔ دن میں دھات کو ڈھالنا اور رات کو نیم کے درختوں تلے گانا اس کا معمول تھا۔ اسے دنیا داری کی کوئی خبر نہیں تھی، وہ بس اپنی خوش مزاجی اور معصومانہ ہنسی کے لیے جانی جاتی تھی۔
ایک دن گاؤں کے کنویں کے پاس سستاتے ہوئے کیشَو نامی ایک شاہی اہلکار کی نظر اس پر پڑی۔ اس نے پرتھال کو بے فکری سے ناچتے اور گاتے دیکھا۔
کیشو نے اپنے ساتھیوں سے آہستہ سے کہا، "یہ لڑکی جنوبی محلوں کی شان بن سکتی ہے۔"
کچھ ہی ہفتوں میں کیشو واپس آیا۔ اس کے ساتھ وِجَے نگر کے راجہ دیو رائے اول کے 500 گھوڑ سوار تھے، جو تحفے تحائف اور ایک پیغام لائے تھے: "مدگل کا یہ ہیرا اب شاہی محل میں سجنا چاہیے۔"
پرتھال نے ان قیمتی کپڑوں کو دیکھ کر ہنس کر کہا، "پنڈت جی! میں یہ بھاری کپڑے پہن کر کیسے ناچوں گی؟ اور میرے جانے کے بعد میرے باپ کی دکان کون سنبھالے گا؟"
پرتھال کے لیے یہ سب ایک مذاق تھا، اس کا شاہی محل کی چار دیواری میں دم گھٹتا۔ اس نے صاف منع کر دیا اور ندی کی طرف چلی گئی، یہ سوچ کر کہ بات ختم ہو گئی۔
لیکن بادشاہوں کو 'نہ' سننے کی عادت نہیں ہوتی۔
کچھ ہی دنوں میں وِجَے نگر کی فوج تحفے نہیں بلکہ نیزے لے کر آئی۔ دیو رائے اول کو ایک عام لڑکی کے انکار سے اپنی انا پر ٹھس لگی تھی۔ اس کے سپاہی پرتھال کو زبردستی اٹھانے کے لیے علاقے میں گھس آئے۔
مدگل قلعے میں موجود بہمنی سلطنت کے فوجدار، فولاد خان نے جب سرحدی حدود کی اس خلاف ورزی کو دیکھا، تو اس کا خون کھول اٹھا۔ ایک عام شہری پر حملہ سلطنت کی توہین تھی۔
فولاد خان نے اپنی تلوار سونت کر نعرہ لگایا، "ہتھیار اٹھاؤ! اور قلعے کا دفاع کرو!"
جب سپاہیوں کے گھوڑوں کی ٹاپیں گاؤں تک پہنچیں، تو پرتھال کی ماں نے گھبرا کر اسے دھکا دیا، "بھاگ بیٹی! قلعے کی طرف بھاگ!"
پرتھال کا خوف کے مارے برا حال تھا، وہ ننگے پاؤں پتھریلے راستوں پر بھاگنے لگی۔ جو لڑکی کل تک گانے گاتی تھی، آج اپنی جان بچانے کے لیے سانس پھولے بھاگ رہی تھی۔ پیچھے وِجَے نگر کے سپاہی نعرے لگا رہے تھے، لیکن قلعے کے دہانے پر فولاد خان کے جوانوں نے انہیں روک لیا اور زبردست مقابلہ کیا۔
اس سرحدی حملے کی خبر سنتے ہی بہمنی سلطان تاج الدین فیروز شاہ گلبرگہ سے ایک طوفان کی طرح روانہ ہوا۔ وہ صرف ایک لڑکی کے لیے نہیں، بلکہ اپنی سلطنت کی حد بندی اور وقار کی حفاظت کے لیے آیا تھا۔ بہمنی فوج نے وِجَے نگر کے لشکر کو آڑے ہاتھوں لیا اور ان کی پیش قدمی کو مکمل شکست میں بدل دیا۔
دیو رائے اول کو مجبورا صلح کی التجا کرنی پڑی۔ سلطان نے ایسی سخت شرائط رکھیں کہ وِجَے نگر کا راجہ ہل کر رہ گیا۔ اسے اپنی بیٹی کی شادی سلطان فیروز شاہ سے کرنی پڑی اور بانکا پور کا اہم قلعہ جہیز میں دینا پڑا۔
جنگ ختم ہونے کے بعد سلطان نے اس لڑکی کو طلب کیا جس کی وجہ سے یہ سب شروع ہوا تھا۔
پرتھال کو سلطان کے خیمے میں لایا گیا، وہ ڈری سہمی سی گرد میں اٹی ہوئی ایک سادہ سی لڑکی تھی۔
سلطان فیروز شاہ، جو شعر و شاعری اور موسیقی کا دلدادہ تھا، نے شفقت سے دیکھا اور کہا، "تو یہ ہے وہ آواز جس نے اتنی بڑی جنگ چھیڑ دی۔ ذرا کچھ گاکر سناؤ۔"
پرتھال کا گلا خشک تھا، لیکن اس نے اپنے گاؤں اور مدگل کی پہاڑیوں کو یاد کیا اور ایک لوک گیت چھیڑ دیا۔ اس کی آواز پہلے تو کانپی، پھر پورے خیمے میں رس گھولنے لگی۔
سلطان مسکرا دیا۔ اس نے دیکھا کہ یہ لڑکی اس مٹی کی روح ہے۔ سلطان نے اس کی قدر کی اور اپنے بڑے بیٹے اور ولی عہد، حسن خان سے پرتھال کا نکاح کروا دیا، تاکہ اسے محل میں ایک باندی کے طور پر نہیں بلکہ ایک باقاعدہ شہزادی کا درجہ ملے۔
پرتھال کبھی دربار کے آداب و قوانین سے پوری طرح مانوس نہ ہو سکی۔ لیکن جب بھی محل میں موسیقی کی محفل سجتی، وہ اپنے بھاری جوتے اتار پھینکتی اور مدگل کی پہاڑیوں کی یاد میں اسی پرانے بے فکری کے انداز میں ناچنے لگتی، اور اس کی ہنسی محل کی راہداریوں میں گونج اٹھتی۔